Wednesday, 4 May 2016




اللہ تعالیٰ اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ھے۔اور جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ھیں تو بس اتنا ھی کہتے ھیں کہ 
ھو جا اور وہ ھو جاتا ھے
اس کا مطلب تو یہ ھوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بنا کر اس کی تقدیر لکھ دی اور اب سب کچھ اسی طرح سے چل رھا ھے جیسا کہ تخلیق کائنات کے وقت تھا۔اللہ تعالیٰ اب بھی جب چاھتے ھیں اس میں ردوبدل کرتے رھتے ھیں۔کسی قوم کو عروج دینے کا ارادہ کرتے ھیں تو بس کن  کہتے ھیں اور اس قوم کو عروج حاصل ھو جاتا ھے۔انفرادی طور پر بھی ھر شخص کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ھیں اور یہ سب اسی  کن کی کار فرمائی ھے۔
ھم اپنے اعمال   خبیثہ سے باز نہیں آتے تو اللہ کا لفظ کن حرکت میں آتا ھے اور ھم اس عش و عشرت سے نکل کر عزاب الٰہی میں گرفتار ھو جاتے ھیں۔پھر مختلف قسم کی تکلیفیں جو ھمارے ماحول کے مطابق ھوتی ھیں ھم پر نازل کر دی جاتی ھیں۔اللہ تعالیٰ کن فرماتے ھیں اور ھمارے گھر میں کوئی ایسی بیماری آ جاتی ھے جس کا جتنا بھی علاج کروائیں جان ھی نہیں چھوڑتی۔ذہنی ٹینشن،معاشی ٹینشن،اک عجیب قسم کا ذہنی دباؤ وغیرہ۔۔۔۔۔
لیکن جب وہ شخص اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کر لیتا ھے تو اللہ تعالیٰ کا لفظ کن پھر حرکت میں آتا ھے اور پھر سے سب کچھ ٹھیک ھو جاتا ھے۔
لیکن کن سے فیکون تک کچھ ٹائم بھی لگتا ھے۔جیسے اللہ نے کائنات بنانے کا ارادہ کیا تو کن کہا اور اس ساری کائنات کی تخلیق میں چھ دن کا عرصہ لگا۔اگر اللہ چاہتے تو یہ سب ایک لمحہ میں بھی تخلیق ھو سکتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ھر چیز کو ایک مقدار سے پیدا فرمایا اور ایک وقت مقرر میں سب کچھ تخلیق فرما دیا۔
اسی طرح اللہ جب کسی شخص کی انفرادی زندگی کو بدلنے کا ارادہ فرماتے ھیں تو "لفظ کن" ارشاد فرماتے ھیں اور پھر آہستہ آہستہ قدرت کی ساری طاقتیں اس "کن" کو "فیکون" میں بدلنے کیلیئے میدان میں اتر آتی ھیں۔وھی حالات ھوتے ھیں،وھی کاروبار حیات ھوتا ھے لیکن انسان کے حالات بدلنا شروع ھو جاتے ھیں۔
صرف ایک لفظ "کن" اس ساری کائنات کا نظام بدل دیتا ھے۔
اور جب اللہ اس سارے نظام کو ختم کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو یہی لفظ ھو گا جو اس سارے نظام کی کایا پلٹ دے گا اور اس سارے نظام کو یکسر ختم کر دے گا۔
دعا ھے کہ اللہ اس لفظ "کن" کی برکتوں سے آپ کے تمام دکھ درد دور فرمائیں۔
آمین۔۔۔۔۔۔۔ 

No comments:

Post a Comment