Wednesday, 4 May 2016

ذکر کا کیا مطلب ھے ؟؟؟؟؟؟؟



عام طور پر تو یہی سمجھا جاتا ھے کہ ذکر کا مطلب تسبیح وغیرہ ھی کرنا ھے۔لیکن کیا صرف اللہ اللہ کرنے سے دلوں کو سکون مل سکتا ھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زبان سے ذکر کرنے سے بھی دلوں کو سکون مل سکتا ھے۔لیکن جہاں تک میں سمجھا ھوں یہاں اللہ کے ذکر سے مراد پریکٹس آف اسلام ھے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کو ذکرکا نام دیا گیا ھے۔آپ نے محسوس کیا ھوگا کہ کسی دکھی شخص کی مدد کرنے سے جو دل کو سکون ملتا ھے اس کا نعم البدل اور کوئی نہیں۔
اگر دل بہت بے چین ھو تو صدقہ کرنے سے،کسی غریب کی پیسوں سے یا کسی اور طرح سے مدد کریں آپ دیکھیں گے کہ آپ کے دل کو ایسا سکون ملے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔نمازبھی اللہ کا ذکر ھے ۔ لیکن نماز پڑھنے سے بھی دل کو سکون تبھی ملے گا اگر اللہ کے دوسرے احکامات پر بھی عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔حرام چیزوں سے بچنے کی کوشش کی جائے۔کسی کا حق کھانے سے خود کو روکا جائے۔جھوٹ سے بچا جائے۔اگر آپ کسی آفس میں کام کرتے ھیں تو اپنے کام کو پوری ایمانداری سے سرانجام دینے کی کوشش کی جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ برائی کی طرف تو دل خود ھی راغب ھو جاتا ھے لیکن نیکی کی طرف دل کو مجبور کرنا پڑتا ھے۔کسی کے کام میں مدد کرنا بھی تو اللہ کے ذکر میں ھی شامل ھے نا۔۔۔۔۔
قرآن کو سمجھ کر پڑنا بھی اللہ کے ذکر میں شامل ھے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بھی ذکر میں شامل ھے۔
کسی تنگ دست کی مدد کرنا بھی ذکر میں شامل ھے۔
بازار میں چلتے ھوئے نظریں نیچی رکھنا بھی ذکر میں شامل ھے۔
کسی نادار خاندان کو آٹے کی ایک بوری لے کر دینا بھی ذکر میں شامل ھے۔
اللہ تعالیٰ ھم سب کو اپنا ذکر اس طرح کرنے کی توفیق دیں جیسا کہ اس کے ذکر کرنے کا حق ھے
آمین 

No comments:

Post a Comment