Sunday, 8 May 2016
Wednesday, 4 May 2016
﷽
اللہ تعالیٰ اور پوری کائنات کا پیدا کرنے والا ھے۔اور جب کوئی کام کرنے کا ارادہ کرتے ھیں تو بس اتنا ھی کہتے ھیں کہ
ھو جا اور وہ ھو جاتا ھے
اس کا مطلب تو یہ ھوا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ کائنات بنا کر اس کی تقدیر لکھ دی اور اب سب کچھ اسی طرح سے چل رھا ھے جیسا کہ تخلیق کائنات کے وقت تھا۔اللہ تعالیٰ اب بھی جب چاھتے ھیں اس میں ردوبدل کرتے رھتے ھیں۔کسی قوم کو عروج دینے کا ارادہ کرتے ھیں تو بس کن کہتے ھیں اور اس قوم کو عروج حاصل ھو جاتا ھے۔انفرادی طور پر بھی ھر شخص کی زندگی میں اتار چڑھاؤ آتے رہتے ھیں اور یہ سب اسی کن کی کار فرمائی ھے۔
ھم اپنے اعمال خبیثہ سے باز نہیں آتے تو اللہ کا لفظ کن حرکت میں آتا ھے اور ھم اس عش و عشرت سے نکل کر عزاب الٰہی میں گرفتار ھو جاتے ھیں۔پھر مختلف قسم کی تکلیفیں جو ھمارے ماحول کے مطابق ھوتی ھیں ھم پر نازل کر دی جاتی ھیں۔اللہ تعالیٰ کن فرماتے ھیں اور ھمارے گھر میں کوئی ایسی بیماری آ جاتی ھے جس کا جتنا بھی علاج کروائیں جان ھی نہیں چھوڑتی۔ذہنی ٹینشن،معاشی ٹینشن،اک عجیب قسم کا ذہنی دباؤ وغیرہ۔۔۔۔۔
لیکن جب وہ شخص اللہ تعالیٰ سے سچے دل سے توبہ کر لیتا ھے تو اللہ تعالیٰ کا لفظ کن پھر حرکت میں آتا ھے اور پھر سے سب کچھ ٹھیک ھو جاتا ھے۔
لیکن کن سے فیکون تک کچھ ٹائم بھی لگتا ھے۔جیسے اللہ نے کائنات بنانے کا ارادہ کیا تو کن کہا اور اس ساری کائنات کی تخلیق میں چھ دن کا عرصہ لگا۔اگر اللہ چاہتے تو یہ سب ایک لمحہ میں بھی تخلیق ھو سکتا تھا۔لیکن اللہ تعالیٰ نے ھر چیز کو ایک مقدار سے پیدا فرمایا اور ایک وقت مقرر میں سب کچھ تخلیق فرما دیا۔
اسی طرح اللہ جب کسی شخص کی انفرادی زندگی کو بدلنے کا ارادہ فرماتے ھیں تو "لفظ کن" ارشاد فرماتے ھیں اور پھر آہستہ آہستہ قدرت کی ساری طاقتیں اس "کن" کو "فیکون" میں بدلنے کیلیئے میدان میں اتر آتی ھیں۔وھی حالات ھوتے ھیں،وھی کاروبار حیات ھوتا ھے لیکن انسان کے حالات بدلنا شروع ھو جاتے ھیں۔
صرف ایک لفظ "کن" اس ساری کائنات کا نظام بدل دیتا ھے۔
اور جب اللہ اس سارے نظام کو ختم کرنے کا ارادہ فرمائیں گے تو یہی لفظ ھو گا جو اس سارے نظام کی کایا پلٹ دے گا اور اس سارے نظام کو یکسر ختم کر دے گا۔
دعا ھے کہ اللہ اس لفظ "کن" کی برکتوں سے آپ کے تمام دکھ درد دور فرمائیں۔
آمین۔۔۔۔۔۔۔
ذکر کا کیا مطلب ھے ؟؟؟؟؟؟؟
﷽
عام طور پر تو یہی سمجھا جاتا ھے کہ ذکر کا مطلب تسبیح وغیرہ ھی کرنا ھے۔لیکن کیا صرف اللہ اللہ کرنے سے دلوں کو سکون مل سکتا ھے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ صرف زبان سے ذکر کرنے سے بھی دلوں کو سکون مل سکتا ھے۔لیکن جہاں تک میں سمجھا ھوں یہاں اللہ کے ذکر سے مراد پریکٹس آف اسلام ھے۔یعنی اللہ تعالیٰ کے احکامات پر عمل کرنے کو ذکرکا نام دیا گیا ھے۔آپ نے محسوس کیا ھوگا کہ کسی دکھی شخص کی مدد کرنے سے جو دل کو سکون ملتا ھے اس کا نعم البدل اور کوئی نہیں۔
اگر دل بہت بے چین ھو تو صدقہ کرنے سے،کسی غریب کی پیسوں سے یا کسی اور طرح سے مدد کریں آپ دیکھیں گے کہ آپ کے دل کو ایسا سکون ملے گا کہ آپ حیران رہ جائیں گے۔نمازبھی اللہ کا ذکر ھے ۔ لیکن نماز پڑھنے سے بھی دل کو سکون تبھی ملے گا اگر اللہ کے دوسرے احکامات پر بھی عمل کرنے کی کوشش کی جائے۔حرام چیزوں سے بچنے کی کوشش کی جائے۔کسی کا حق کھانے سے خود کو روکا جائے۔جھوٹ سے بچا جائے۔اگر آپ کسی آفس میں کام کرتے ھیں تو اپنے کام کو پوری ایمانداری سے سرانجام دینے کی کوشش کی جائے۔اس میں کوئی شک نہیں کہ برائی کی طرف تو دل خود ھی راغب ھو جاتا ھے لیکن نیکی کی طرف دل کو مجبور کرنا پڑتا ھے۔کسی کے کام میں مدد کرنا بھی تو اللہ کے ذکر میں ھی شامل ھے نا۔۔۔۔۔
قرآن کو سمجھ کر پڑنا بھی اللہ کے ذکر میں شامل ھے۔
کسی بھوکے کو کھانا کھلانا بھی ذکر میں شامل ھے۔
کسی تنگ دست کی مدد کرنا بھی ذکر میں شامل ھے۔
بازار میں چلتے ھوئے نظریں نیچی رکھنا بھی ذکر میں شامل ھے۔
کسی نادار خاندان کو آٹے کی ایک بوری لے کر دینا بھی ذکر میں شامل ھے۔
اللہ تعالیٰ ھم سب کو اپنا ذکر اس طرح کرنے کی توفیق دیں جیسا کہ اس کے ذکر کرنے کا حق ھے
آمین
Tuesday, 3 May 2016
A Unique Claim.....
The QURAN claims that This is the Book in which no lie.It is a big claim. In the history of written books no other book claimed like this.It is very strange fact that any other book never claimed like this.Any writer who wrote any kind of book like science, philosophy, medical etc,never claimed that there is no lie in his book.it is only QURAN who claimed like this and since 14 centuries no one could find any mistake or lie in this.
After this claim QURAN say that
It guides the pious and nobles.
So if someone is seeking guidance from this book,he must be noble and pious.
Subscribe to:
Posts (Atom)



